نئی دہلی،26؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے ایک کلیدی اجلاس نے لوک سبھا انتخابات میں ہزیمت کے بعد کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی طرف سے دی گئی استعفیٰ کی پیشکش کو متفقہ طور پر مسترد کردیا اور انہیں اپنی پارٹی کی تمام سطحوں پر ازسرنو ڈھانچہ بندی اور ردوبدل کا اختیار دے دیا۔ سی ڈبلیو سی کا اہم اجلاس چار گھنٹے تک جاری رہا جس میں کانگریس کی شکست کے پس پردہ عوامل و عواقب کا پتہ چلانے کی کوشش کی گئی۔ اس پارٹی کے کئی قائدین نے راہول گاندھی سے پارٹی کی قیادت بدستور جاری رکھنے کی درخواست کی۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے سی ڈبلیو سی سے خطاب کے دوران پارٹی کے صدر کی حیثیت سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی لیکن سی ڈبلیو سی نے بہ یک آواز ہوکر ان کے استعفیٰ کی پیشکش کو مسترد کردیا اور کانگریس کے صدارت درخواست کی کہ وہ چیلنجوں سے بھرے اس نازک وقت پارٹی کی قیادت و رہنمائی جاری رکھیں۔ سی ڈبلیو نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے راہول گاندھی سے متفقہ طور پر درخواست کی جاتی ہے کہ وہ کانگریس کی نظریاتی جدوجہد اور ہندوستانی نوجوانوں، کسانوں، درج فہرست طبقات و قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں اور سماج کے دیگر پچھڑے ہوئے طبقات کے کاز کیلئے پارٹی کی قیادت کرتے رہیں۔ ملک بھر کے سینئر کانگریس قائدین نے آج یہاں منعقدہ اپنی پارٹی کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ کے اجلاس میں شرکت کی اور لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی شکست کی وجوہات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی۔ راہول گاندھی کی صدارت میں منعقدہ سی ڈبلیو سی اجلاس میں یو پی اے صدرنشین سونیا گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، کانگریس زیراقتدار ریاستوں کے چند منسٹرس اور دیگر سرکردہ قائدین نے شرکت کی۔ پنجاب، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر امریندر سنگھ، اشوک گہلوٹ اور بھوپیش بھاگیل کے علاوہ دیگر سینئر قائدین غلام نبی آزاد، آنند شرما، پی چدمبرم، اے کے انٹونی، احمد پٹیل، شیلا ڈکشٹ اور دوسروں نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔